یوم آزادی پاکستان
پاکستان کو آزادی حاصل ہوئے کئی سال گزر چکے ہیں یہ سفر صدیوں کی جدوجہد اور بے شمار قربانیوں سے حاصل ہوا ہے۔ نوجوانوں نے اس جدوجہد میں ایک اہم کردادا کیا تھا .جیسا کہ قائداعظم نے نوجوانوں کو ملک کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا ۔ تاہم آج کے اکثر نوجوان اس خوبی سے خالی نظر آتے ہیں۔ وہ قومی بہبود پر ذاتی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں اور ملک کی تاریخی جدوجہد اور موجودہ مسائل سے بڑی حد تک لاتعلق رہتے ہیں۔ یہ غفلت قوم کے مستقبل کو خطرے میں ڈالتی ہے۔اکثر نوجوان نسل آزادی کی تاریخ کو محض کہانیوں کے طور پر دیکھتی ہے، قربانیوں کی گہرائی سے بے خبر۔ ان کے پاس قائداعظم کی سوچ اور پاکستان کی نظریاتی بنیادوں میں دلچسپی اور سوجھ بوجھ نہیں ہے۔ علماء قائدین اور والدین کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ وہ نوجوانوں کو اپنی تاریخ اور ان کے ورثے کی اہمیت کے بارے میں تعلیم دے کر اس خلاء کو دور کریں۔ اسکول و کالج ٬ والدین اور بزرگوں کو چاہیے کہ وہ پاکستان کی تاریخ اور اس کی آزادی کے لیے دی گئی قربانیوں سے اپنے نئی نسل کو آگاہ کریں ، تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ قوم اپنے ماضی کو نہ بھولے اور اس کا مستقبل محفوظ رہے
تقسیم ہندوستان 1947میں ہجرت کر کے پاکستان آنے والے مسلمان مردوں ،عورتوں اور بچوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے گئے ۔یہ درد ناک کہانیاں اخبارات و جرائد کے علاوہ کتابوں میں بھی محفوظ ہیں ۔ان میں سے چند ایک قارئین کی خدمت میں پیش کی جارہی ہیں تاکہ ہماری نئی نسل کو مملکت خداداد پاکستان کیلئے دی گئی قربانیوں سے آگاہی حاصل ہو اور پاکستان کی قدروقیمت کا اندازہ ہو سکے
قیام پاکستان کے اعلان کے فورا بعد شمالی ہندوستان کے طول و عرض میں ہندومسلم فساد پھوٹ پڑے۔ انسانی اور اخلاقی قدریں محض قصہ ماضی بن کر رہ گئیں۔ سالہا سال سے اکٹھے رہنے والے ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوگئے۔ ان حالات میں میرے والد نے گاؤں کے دوسرے لوگوں سے مشورے کے بعد پاکستان کی طرف ہجرت کا فیصلہ کیا، لیکن ہندووں اور سکھوں کو یہ بات بھی گوارا نہ تھی اور عین ہماری روانگی کے وقت آس پاس کے گاؤں سے مسلح جتھے وہاں پہنچ گئے اور چشم زدن میں تمام مردوں کو تہِ تیغ کردیا۔
نوجوان لڑکیوں کو ان کی ماؤں کے سامنے اجتماعی ہوس کا نشانہ بنایاگیا۔ آج بھی جب میں ان دلخراش مناظر کوچشم تصور سے دیکھتی ہوں تو یقین نہیں آتا کہ ابن آدم ذلت کی ان گہرائیوں تک بھی جاسکتا ہے۔ میرا معصوم بھائی باقی بچوں کی طرح ڈرا سا کھڑا تھا ۔ جب اس نے چند حیوانوں کو میری طرف بڑھتے دیکھا جن پر میری منت سماجت کا کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا تو بھاگ کر میرے سامنے آگیا اور مجھے اپنی پناہ میں لے لیا۔ تبھی ایک منحنی سے ہندو نے اپنی کلہاڑی کا زوردار وار اس معصوم کی گردن پر کیا جس سے اس کا سر تن سے جدا ہو کر دور جا پڑا۔ اس پر اس ظالم نے شیطانی ہنسی ہنستے ہوئے کہا اگر مجھے معلوم ہوتاکہ تمہاری گردن اتنی کمزور ہے تو اپنی کلہاڑی تمہارے گندے خون سے بھرشٹ (ناپاک) نہ کرتا۔ اب مجھے اپنی کلہاڑی گنگاجل سے دھو کر پوتر (پاک)کرنی پڑے گی یہ کہہ کر وہ بھی شیطانی کھیل میں شامل ہوگیا۔یہ سب کچھ ہونے کے باوجود زمین پھٹی نہ آسمان ٹوٹ کر گرا۔ تمام بوڑھی عورتوں کو قتل کرنے کے بعد سب لڑکیوں کو وہ ایک حویلی میں لے گئے اور سب قطار بناکر کھڑے ہوگئے اور باری باری اپنے اشرف المخلوقات ہونے کا ثبوت فراہم کرتے گئے۔نئے آنے والے قطار کے آخر میں اپنی باری کے انتظار میں کھڑے ہوجاتے۔ اس عمل میں، میں زندہ بچ جانے والی چند خوش نصیب یا بدنصیبوں میں ایک میں بھی شامل تھی۔ اس کے بعد میں ایک کے ہاتھوں سے دوسرے تک پہنچتی رہی۔ آخر سوہن سنگھ نے مجھے اپنے گھر ڈال لیا اور شادی بھی کرلی۔ سات سال بعد سوہن سنگھ سورگباش ہوگیا تو اس کے چھوٹے بھائی مہندر نے مجھ سے شادی کرلی۔(بحوالہ:1947 کے مظالم کی کہانی خود مظلوموں کی زبانی۔
ہندوستان کے طول و عرض میں ہندو مسلم فساد پھوٹ پڑے۔ انسانی اور اخلاقی قدریں محض قصہ ماضی بن کر رہ گئیں۔ سالہا سال سے اکٹھے رہنے والے ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوگئے۔ ان حالات میں میرے والد نے گاؤں کے دوسرے لوگوں سے مشورے کے بعد پاکستان کی طرف ہجرت کا فیصلہ کیا، لیکن ہندوں اور سکھوں کو یہ بات بھی گوارا نہ تھی اور عین ہماری روانگی کے وقت آس پاس کے گاؤں سے مسلح جتھے وہاں پہنچ گئے اور چشم زدن میں تمام مردوں کو تہِ تیغ کردیا
ضلع ہوشیار پور کی ایک کہانی بھی شن لیجیے:ہوشیار پور کی وہ رات بے حد طویل تھی ۔ چوک سراجاں پر حملے کی دوسری رات۔۔۔حملہ آوروں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا تھا۔ پہلے روز پچاس نوجوان شہید ہوئے۔ دوسرے روز ساٹھ، شام ہونے سے پہلے دوچار ایسے دلدوز واقعات ہوئے کہ مسلمانوں کی عزیمت اور جوش میں زبردست اضافہ ہوا تھا بزرگ اور نوعمر بھی میدان میں اترنے لگے۔ عصر کے وقت سے دست بدست لڑائی ہورہی تھی۔ ایک مسلمان نوجوان گرا، خون کے فوارے نکل رہے تھے۔ اس نوجوان کا گھر لڑائی کے میدا ن کے بالکل سامنے تھا۔ گھر کا ایک چھوٹا بچہ یہ منظر دیکھ رہا تھا۔ خواتین کو ہوش نہ رہا اور بچہ ابا ابا کہتے ہوئے دروازے سے نکل کر ہندووں اور سکھوں کی طرف بھاگا۔ سکھوں نے بچے کو پکڑ لیا اور چلا چلا کر اعلان کیا، دیکھو ہم آج مسلے کے بچے کے ساتھ کیا کرتے ہیں۔ مسلمان دم بخود تھے کہ یہ بچہ وہاں کیسے پہنچ گیا۔ سکھوں نے بچے کو اوپر اچھالا اور نیچے سے نیزے پر اسے لے لیا۔ بچے کی چیخ اس قدر دلدوز تھی کہ آسمان تک لرز اٹھا۔ ا س نے تڑپ تڑپ کر وہیں جان دے دی۔ (بحوالہ: اردوڈائجسٹ)
دوسرا واقعہ یوں ہے کہ نومبر 1947 کو ایک شام واہگہ ریلوے اسٹیشن پر اہل لاہور کا ایک جم غفیر اس گاڑی کے استقبال کے لئے موجود تھا جو مہاجرین کو لے کر کالکا سے چلی تھی اور براستہ امرتسر پاکستان پہنچ رہی تھی۔ خاصے انتظار کے بعد دھندلائے ہوئے افق پر ایک سیاہ دھبہ منتظر لوگوں کی سمت بڑھتا ہوا نظر آیا۔ یہ ریل کا انجن تھا ۔ خوشی کی ایک لہر ہجوم میں پھیل گئی۔ وہ پانی کے مٹکوں اور کھانے کے طباقوں کا جائزہ لینے لگے جو انہوں نے پاک وطن میں آنے والے مہاجربھائیوں کے لئے تیار کررکھے تھے۔ جوں جوں گاڑی نزدیک آتی گئی لوگوں کاجوش و خروش بڑھتاگیا۔ انہوں نے نعرہ تکبیر ،نعرہ رسالت اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے لیکن گاڑی سے ان کے نعروں کا کوئی جواب نہ آیا۔ گاڑی اسٹیشن کی حدود میں داخل ہوئی اور ہلکی رفتار سے چلتی پلیٹ فارم پر آرکی، مگر گاڑی کا کوئی دروازہ کھلا نہ اس میں سے کوئی ذی روح برآمد ہوا۔ لوگوں کے دل انجانے اندیشے سے دھڑک اٹھے ۔اور جب انہوں نے کھڑکیوں سے ڈبوں کے اندر جھانکا تو ان کے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ کرپانوں سے کٹے ہوئے گلے، گولیوں سے چھلنی سینے، جسم سے علیحدہ ہوئے بازو، پھٹے ہوئے پیٹ، ظلم وتشدد کی المناک داستان سنا رہے تھے۔ پھر نوجوانوں نے گاڑی کے ڈبے آپس میں تقسیم کرلئے اور خون میں لت پت، کٹی پھٹی اوپر نیچے پڑی لاشوں کو عزت واحترام کے ساتھ آبدیدہ آنکھوں سے ہدیہ عقیدت پیش کرتے اتارنے لگے۔ (بحوالہ: 1947 کے مظالم کی کہانی خود مظلوموں کی زبانی ۔از حکیم محمد طارق محمود چغتائی۔)
![]() |
وہ فصل جسے اندیشہ زوال نہ ہو
پاکستان زندہ آباد

